آنکھوں دیکھی

 آپ نے کبھی ہنسی دیکھی ہے؟ میں نے اس کی آنکھیں دیکھی ہیں، ہنستی ہوئی آنکھیں۔ یقیناً اس کے ہونٹ دیکھ سکتے ہوں گے۔ اس کی ہنسی سنائی نہیں دیتی مگر ہر سو دکھائی دینے لگتی ہے، ایسے لگتا ہے کہ آپ کے اطراف میں ہنسی ناچ رہی ہو۔تھرکتی ہوئی دھڑکتی ہوئی ہنسی، خیر دھڑکن دکھائی کہاں دیتی ہے!

وہ مجھے ایک کیفے میں دکھائی دی تھی۔ اس کے ساتھ اس کی کوئی دوست ہو گی، کیفے کے ایک کونے میں گول ٹیبل پر بیٹھی ہوئیں۔ ٹیبل پر دو فراپے کے گلاس پڑے تھے جو اپنی عمر پوری کرنے ہی والے تھے۔ اس نے موبائل اٹھایا اور اس میں اپنے چہرے کو دیکھنے لگی. موبائل کا کور ہلکے نیلے رنگ کا تھا جس پر چھوٹے چھوٹے پیلے پھول بنے ہوئے تھے. اس نے موبائل کی سکرین دیکھتے ہوئے بائیں آنکھ پر آتی لٹ کو بائیں کان کے پیچھے دھکیلا اور آنکھوں کے نیچے والی جلد کو اپنی بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے دو چار بار تھپکنے کے بعد اس نے خالی ہوتے گلاس کی تصویر لی اور سکرین پر اپنے لمبے ناخنوں سے کچھ لکھنے کے بعد اس نے مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ  ٹیبل پر موبائل الٹا رکھ دیا۔ اور اس کی دوست نے اسی وقت کوئی بات کہی، اور وہ کھل کے ہنسنے لگی۔ ان کی آواز سننا میرے لیے ممکن نہیں تھا مگر میں صرف دیکھ سکتا تھا۔ تب میں نے زندگی میں پہلی بار ہنسی کو دیکھا۔

جیسے سرد صبح میں سورج کی پہلی پہلی کرنیں کھڑکی پر ٹنگے دو پردوں کے بیچ میں سے اپنی راہ بناتی ہوئیں کسی کمرے میں رکھے آئینے پر پڑتی ہیں تو کمرے میں جیسے سفیدی ملے پیلے رنگ کی بہار سی اتر آتی ہے اور سارے میں جیسے چھوٹے چھوٹے پیلے رنگ کے پھول سے اڑنے لگتے ہیں، ایسی دکھائی دیتی ہے اس کی ہنسی، اس کی چندھیائی سی آنکھوں سے اپنی راہ بناتی ،سارے کیفے میں پیلے پھولوں کی بہار لاتی ہوئی ہنسی،بہار تو آپ نے دیکھی ہے ناں، میں نے ہنسی دیکھی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ٹھنڈی آگ

جہانِ کُن فیکون

دو سو روپے