میں خاک زادہ آسماں کے سفر پہ نکلوں تو کیونکر چاند سورج اور چند بـے نام ستارے اس کے آگے بڑھوں تو کیونکر وہ کہتے ہیں آسمانوں کے پار حدِ نظر سے پرے وہم و گماں سے ماورا کوئی خدا ...
ماں کی آواز ٹیلی فون سے سیدھی دل میں اتر گئی.. "بڈھا گھر آجا مجھے تیری بہت ضرورت ہے" اگلے دن ٹکٹ لے کر بلوچستان کیلئے روانہ ہوا.. جہاز میں بیٹھتے ہی خیالوں کا ایک ہجوم ذہن میں امڈ آ...
سارے میں برف ایسے پڑی ہے جیسے مائی زینب نے رُوئی سُکھانے چھت پہ ڈال رکھی ہو... سورج سوا نیزے پہ بھی ٹھنڈا ہوا پڑا ہے ... دستانے پہنے ہاتھوں میں کافی کے گرم مگ سے اور منہ سے دھواں نکل ...
فون کی گھنٹی بجی، لفظ "ماں" نمودار ہوا تو جھٹ سے فون اٹھا لیا.. ماں کی آواز کانوں میں پڑی تو دل تک اتر گئی "بڈھا گھر آجا مجھے تیری بہت ضرورت ہے" زندگی بھر ماں نے مجھ سے کبھی کچھ نہیں ...
اس کی ایک بات سے موت کی سی چُپ سارے میں پھیل گئی.. سردیوں کی رات تھی ، کمرے کے بیچوں بیچ انگیٹھی جل رہی تھی، ماسٹر لطیف لحاف میں گھسے بیٹھے تھے اور شاہدہ بی بی کی چھیلی مونگ پھلی...
تُو تو کہتا ہے تُو مالکِ کُل ہے تیرا اک اشارہ 'فَیکون' ہے تو پھر یہ جو خُون ہے جس سے آنگن، دیواریں سبھی لال ہیں یہ جو موت کا ناچ ہے یہ درد و الم کی جو مسلسل آنچ ہے یہ جو ظلم و ستم کے ص...
انسانی وجود ایک سوال ہے، انسان اپنے وجود کے جواب کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے.. کبھی مافوق الفطرت حوالے اسے مطمئن کرتے رہے کبھی ان دیکھے خدا کی تخلیق کاریوں پہ ایمان.. انسان کی ن...