جس دن سورج باری ٹپ کے میرے سِر تے آن کھلوتا سی اَکھ کھلی تے کن وچ میرے اوس دن سَت جہنماں دی اَگ دا پانبھڑ پخیا سی گل سن کے میں ڈھے پیا سی میرا پیو مریا سی جس دن اوس دن میں وی مر گیا سی
رات پھر میں سو نہیں پایا کانوں میں آوازوں کا بازار لگا تھا آوازیں جن کے کوئی چہرے نہیں تھے لہجے تھے... جو سارے سنے سنائے باتیں تھیں، جن کے جملے آدھے پونے تھے پورے نہیں تھے لفظ تھے، جو کسی کتاب کی کوکھ سے جننے سے پہلے ہی مر گئے تھے ساری رات آوازوں کے چہرے بُنتا لہجے سنتا رہا مگر باتوں کی کچی عمروں اور لفظوں کی ننھی قبروں پہ رو نہیں پایا رات بھر میں سو نہیں پایا کانوں میں آوازوں کا بازار لگا تھا
زمین نے چھَج بھر کے سُوھے نیلے ، ہرے تے پیلے اسمان دی ہِک تے تارے کِھچ کِھچ مارے بجھدے تارے ایویں لگے جیویں لَہُو کے چِھٹے وجے پَر اَسمان تے اینج چُپ سی جیویں میرے پیو کی قبر ہووے جِنہوں اپنے ہتھیں مِٹّی دَبیا تے اوس توں بعد اک لمّی چُپ اک لمّی چُپ دے سوا کی لبھیا
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے اندر جیسے دھواں سا بھر جاتا ہے، سانس لینا پھیپھڑوں سے جنگ لگتا ہے، آپ سانس کو جیسے کسی اندھے کنوئیں سے کھینچ کے لاتے ہیں جو اوپر آتے آتے ادھ موئی ہو جاتی ہے اور آپ اس دنگل میں ڈھے جاتے ہیں اس کی طرف سے خط وصول ہوا تھا، خط کیا تھا، ایک رقعہ تھا جسے بـے ڈھنگے طریقے سے کتاب سے پھاڑا گیا تھا. نیلی پنسل سے سب سے اوپر لکھا تھا "آخری رقعہ"..ان دو الفاظ نے جیسے آنکھوں کے پاؤں جکڑ لیے تھے، ان دو الفاظ کو کتنی دیر حروف میں توڑتا اور جوڑتا رہا، بار بار یہ عمل دوہرانے سے جیسے معانی بدل جائیں گے آگے لکھا تھا "سعد نہ میں بدلی ہوں نہ میری محبت، بس میری قسمت بدلی ہے اور مجھے کسی کالے اندھے کنوئیں میں لے آئی ہے، جہاں آپ کو میں کہیں بھی نہیں دیکھتی، جہاں میں خود کو بھی نہیں دیکھ پا رہی. اور جہاں میں نہیں، وہاں آپ کیسے ہوں گے، سو ہم دونوں اس زندگی کے کنوئیں میں کہیں بھی اکٹھے نہیں ہوں گے" بس آگے کچھ بھی نہیں تھا.. اس سے آگے اور ہو بھی کیا سکتا تھا سعدیہ، میری چھوٹی بہن ارم کی دوست تھی اور کلاس فیلو بھی.. ارم کے ساتھ پہلی بار گھر آئی تھی تو لگا جیسے ط...
سجّے ہتھ دی دو انگلاں اچ دبیا ہویا سِغٹ بلدے بجھدے تارے وانگوں پھڑک رہیا اے کدرے اندروں کدرے کلبوت دی پِشلی کوٹھڑی اندروں کھِچ تُرو کے لیاندا ساہ گلے تکر آندا مر جاندا اے اوس مرے ہوئے ساہ دی چِتا نوں ساڑ دینا واں تے فیر اوس تُوویں دے ساہ لینا واں
غسل خانے کی دیوار پہ ایک ہی آئینہ ٹنگا تھا جس کے نیچے والے دونوں کونے سیاہ پڑ چکے تھے اور ان کی سیاہی اوپر کی طرف ایسے بڑھ رہی تھی جیسے کوئی بیل دیوار چڑھتی ہے. تازہ شیو کے بعد میرے گالوں سے جیسے دھواں نکل رہا تھا. کنگے سے سر کے داہنی طرف مانگ نکالتے ہوئے مجھے گاؤں کے بیچوں بیچ گزرتی سڑک یاد آ گئی، جو ہوبہو ایسے لگتی تھی جیسے کسی نے سر کے عین درمیان میں کَس کے مانگ نکالی ہو. وہی سڑک مجھے اس شہر میں لائی تھی جہاں ایک رہائشی عمارت میں ایک کمرے کا گھر تھا، جہاں اب ہم تین لوگ ایک کچن اور غسل خانہ شئیر کرتے تھے، اور اسی غسل خانے میں سیاہ پڑتے آئینے کے سامنے میں تیار ہو کے جاب انٹرویو کے لیے نکلنے والا تھا شہر نیا تھا، راستے نئے تھے، زندگی کی کروٹ نئی تھی اور نئی پینٹ اور بش شرٹ میں، میں بھی نیا نیا ہی لگ رہا تھا. ٹائی باندھنا میں پہلے ہی یوٹیوب سے سیکھ چکا تھا. تیار ہو کے گلی میں نکلا، سامنے ارشاد جنرل سٹور سے چیونگم کا پیکٹ لیا اور جیب میں رکھ کے رکشے کا انتظار کرنے لگا. کچھ ہی لمحوں میں رکشے کی آواز کانوں میں پھڑ پھڑ کرنے لگی، مڑ کے دیکھا اور دور سے آتے رکشے کو ہاتھ دیا. رکشہ ڈرائیور بڑھ...
عصر کا وقت سر پہ تھا اور مسجد میں مولوی عبدالحق کا سایہ تک نہ تھا. جون کی تپتی دوپہر تھی، ماسٹر انعام اللہ کے علاوہ اکا دکا نمازی ہی تھے جو دیواروں سے لگے سستا رہے تھے. ماسٹر جی نے دیوار کا سہارا لے کے اپنا فربہی جسم اٹھایا اور پھر گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ کے آہستہ آہستہ کھڑے ہوئے. گھڑی کی سوئیاں ٹک ٹک چکر لگا رہی تھیں. ماسٹر جی نے ادھر ادھر دیکھا اور گھڑی کو گھورتے ہوئے سپیکر کی طرف بڑھے. سپیکر آن کیا اور اپنی منحنی آواز میں اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز لگانی شروع کر دیں . ماسٹر جی حتی الامکان کوشش کرتے تھے کہ وہ اذان نہ ہی دیں کیونکہ ان کی آواز ان کے جثے کے بالکل برعکس تھی. خیر اذان تھی، چار رکعت سنت پڑھی، سلام پھیر کے دیکھا تو مولوی عبدالحق ابھی تک مسجد نہیں پہنچے تھے. مولوی عبدالحق مسجد کی پچھلی گلی میں ہی رہتے تھے، مسجد کی طرف سے رہائش ملی تھی وہ خود نواں والی سے تھے. ماسٹر جی نے وقار مچھی کو بھیجا کہ جاؤ مولوی صاحب کو بلا کے لاؤ، شاید سو گئے ہوں گے. جماعت کے وقت میں پانچ منٹ باقی تھے کہ وقار مچھی دوڑتا ہانپتا آیا اور بتایا کہ دروازے کو باھر سے تالا لگا ہوا ہے.. پہلے سب حیران ہوئے اور پھ...