Posts

چالیس اور چار قدم

وہ گھڑی آ گئی تھی جب کلائی پہ بندھی گھڑی اور دل کی دوڑ میں میل جول نہیں رہا تھا. دل کے پیروں میں گھڑی کی سوئیاں چبھ گئی تھیں، وہ دوڑ رہا تھا اور میرے سامنے پچھلے چالیس منٹ میں کئی میٹرو رکنے کے بعد دوڑ لگا چکی تھیں اور میں میٹرو سٹیشن پہ گوستاو ویگیلاند کے کسی مجسمے کی طرح چپ چاپ کھڑا تھا اُس دن کھانا کھانے کے بعد ڈرائنگ روم میں چالیس قدم چلنے کی سنت پوری کی جا رہی تھی. ابا اسے نبی کی سنت مانتے تھے اور میں اِسے ابا کی سنت. میں ابا سے دو قدم پیچھے تھا اور ابا دونوں ہاتھ پیچھے کو باندھے چل رہے تھے "ابا، آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے" ابا یونہی چلتے چلتے ہی بولے کہ کی گل کرنی آ "میں شادی کرنا چاہتا ہوں" ابا نے چلتے ہوئے مجھے مڑ کے دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کے بولے "اچھااااا، ایہہ تے چنگی گل اے، کوئی رشتہ لبھنے آں" اور یہی سارا مسئلہ تھا کہ جو انہوں نے لبھنا یعنی ڈھونڈنا تھا، وہ میں چار سال پہلے ڈھونڈ چکا تھا میری ہتھیلیاں پسینے میں گویا نہا رہی تھیں اور دل چھاتی کو جیسے دونوں ہاتھوں سے پِیٹ رہا تھا. رنگ چونکہ پہلے ہی سیاہی مائل تھا سو سرخ تو نہیں ہوا، مزید ک...

طوائف کا کوٹھا

میرا دِل ہے کہ طوائف کا کوٹھا، جو بھی آیا کچھ دیر رکا پھر دل سے اتر گیا. مستقل محبت، مزاج میں ہے ہی نہیں. مگر یہ بھی نہیں کہ دل کے کوٹھے پہ آنے والے کسی ایک کو بھی فراموش کر دیا ہو. یادوں کے ساز ہمیشہ بجتے ہیں اور کیا خوب بجتے ہیں محبتوں کے زینوں پہ چڑھنے اور کوٹھے تک پہنچنے کی آہٹیں آج بھی دل میں دھڑکن کی طرح بجتی ہیں. کود پھاند کے چڑھتی جوانی کے بیل بوٹے آج بھی سر سبز ہیں، پھول دیتے ہیں، خوشبو میں نہاتے ہیں. وہ گالوں پہ شرم و جھجھک سےخون کا جم جانا، آج بھی ڈوبتی شام کے گلابی بادلوں میں جھلکتا ہے. آنکھیں جو کسی ان دیکھے بھار سے اٹھائی نہیں اٹھتیں. ان جھکی آنکھوں سے کیسے کیسے حسین منظر دیکھ رکھے ہیں. وہ جو ہاتھ، ہاتھ میں آنے سے دل کا  دوڑتے ہوئے  ہتھیلیوں میں آ دھڑکنا، ہتھیلیوں میں پسینے کی چشمے یوں پھوٹ نکلنے جیسے اچانک کسی پہاڑ سے آبشار نکل پڑے. وہ لَمس کی دستکیں جو دعاؤں کی طرح بار بار دی جاتی رہیں کہ کوئی وہ بند کواڑ کھلیں، وہ بند کواڑ کہ جیسے کسی خدا کے گھر کا دروازہ. وہ بوسے جو دھوپ میں پڑتی بارش کی طرح بدن کے ہر ایک کینوس پہ قوسِ قزح کے رنگ بھرتے رپے. وہ بدن کہ جیسے پر...

پرانا دوزخ

آج موسم ہے کہ حُسن کی معراج پہ ہے گویا. نیلے آسمان کی جھیل میں کہیں کہیں سفید بگلے تیر رہے ہیں. سورج تک خوشگوار موڈ میں ہے. گرمی ہے مگر ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا بھی رواں ہے. میں لنچ بار میں باھر کھلے میں رکھی کرسی پہ بیٹھا ٹھنڈی ٹھار بئیر کے ساتھ brie cheese کے مزے لے رہا ہوں   ساتھ والی کرسی پہ ایک  عمر رسیدہ شخص وائٹ وائن کے سِپ لے رہا ہے. عمر کا اندازہ چہرے کی جھریوں، بازوؤں سے پروں کی طرح لٹکتے ماس اور ہاتھوں کی نیلی نَسوں سے نوے سال کا لگتا ہے یا پھر شاید سو کو چھو رہا ہو. عمر کتنی بھی گزری ہو اس کے بال سر پہ پورے ہیں. دودھ کی طرح سفید اور گھنے اور لمبے بال، جنہیں سر کے پچھواڑے باندھا ہوا ہے . کیپ میز پہ دھری ہے، آدھا پھونکا سگار ایش ٹرے میں ہے اور رے بین کی پائلٹ عینک آنکھوں پہ. وقفے وقفے سے بڑی نزاکت سے وائن کا گلاس ہونٹوں تک جاتا ہے، ایک سِپ لی جاتی ہے اور وہ پھر میز پہ لوٹ آتا ہے  سامنے آسمان کے ساتھ رنگ کا مقابلہ کرتا نیلا سمندر ہے. لوگ آ جا رہے ہیں اور پھر اچانک ایک ادھیڑ عمر شخص سامنے سے گزرتے ہوئے پہلے مجھے مسکراہٹ پھینکتا ہے جو ہمارے ہاں عام رویہ ہے، پھر اسی مسکر...

میں ہی کیوں

مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تمہارا مسئلہ ہے کیا، کیا نہیں ہے تمہارے پاس، کیا ہے جو تمہیں نہیں ملتا، کس شے کی کمی ہے تمہیں؟ ابو بول رہے تھے.. تم بہن بھائیوں کے لیے دن رات ایک کیا ہوا ہے، برینڈڈ کپڑے، برینڈڈ جوتے، نئے سے نیا موبائل، اور کیا چاہیے تمہیں؟؟ میں ان کے سامنے صوفے کے داہنی کونے میں بیٹھی سن رہی تھی مگر سنتے ہوئے ان کی آواز ایسے لگتا تھا جیسے گھر کے آخری کمرے سے آ رہی ہو. دل کا دھڑکنا تو دو چار گہری اور لمبی سانسیں لینے کے بعد آپ محسوس کر سکتے ہیں، کیا آپ نے کبھی کان دھڑکتے محسوس کیے ہیں؟ میرے کان دھک دھک دھک دھک دھڑک رہے تھے بولو، بولتی کیوں نہیں ہو اب؟ ابو کی آواز اونچی ہو رہی تھی. ادھر دیکھو، سامعہ ادھر دیکھو.. میری گردن مزید ڈھلکی جا رہی تھی، ٹھوڑی چھاتی کو چھو رہی تھی ادھر دیکھ، بہری ہو گئی ہے کیا؟ ابو کی آواز اتنی سخت اور اونچی تھی کہ میری گردن خودبخود اونچی ہو گئی. میں نے ابو کی طرف دیکھا. ان کی آنکھیں مجھے چِیر رہی تھیں. دل تیز سے تیز تر دوڑے جا رہا تھا اور پیٹ جیسے کسی سے رسی سے کَسنا شروع کر دیا ہو، میری آنکھیں بائیں ہاتھ کی کلائی پہ بندھی سفید پٹی پہ جمی ہوئی تھیں بول، ...

رائیگانی

مجھے زندگی سے نفرت ہے اور میری زندگی کی سب سے پہلی نفرت 'پڑھائی' تھی. یہ ایک ایسی چڑیل تھی جس نے میرا بچپن ایک ہی لقمہ کر کے ہڑپ کر لیا تھا. کیسا بدبخت انسان ہو گا وہ جس نے سکول میں کلاسیں بنائیں اور پھر کلاسوں میں نمبر ون نمبر ٹو اور نمبر تھری والی نفرت پیدا کی، اور پھر وہ ناہنجار یہیں پہ رکا نہیں، پاس ہونے اور فیل ہونے کے لیے بھی نمبر بنا ڈالے میں جب پیدا ہوا تب کیا ہوا تھا، پھر میری سانسوں اور قد کے ساتھ بڑھتے سالوں میں کیا کیا ہوا، مجھے یاد نہیں، یا یوں کہہ لیں مجھے ہوش نہیں. زندگی کی پہلی یاد جو سر کے پچھواڑے میں کہیں ثبت ہو گئی تھی وہ یہ ہے کہ میں بہتی آنکھوں اور بہتے ناک کے ساتھ مسلسل آگے پیچھے ہِل ہِل کے سرہانے پہ رکھے قرآن سے سبق پڑھ رہا تھا اور رونے کی وجہ یہ تھی کہ میں لفظ صحیح سے تلفظ نہیں کر پاتا تھا، پڑھتے ہوئے کچھ الفاظ کو جوڑ کے پڑھنا میرے لیے بہت مشکل تھا. اس مشکل پہ مزید مشکل ابا کی جھڑکیاں تھیں جو اس وقت تھپڑوں جیسی لگتی تھیں اور رونا تو جیسے میرے سرہانے دھرا رہتا تھا یہ سکول نامی ٹارچر سیل میں جانے سے پہلے کی یاد تھی.. پہلی کلاس میں ابا پہلے دن چھوڑ کے آئ...

دیوارِ کعبہ

جب میں یہ سطریں لکھ رہی ہوں تو باھر بارش نے ایک اودھم سا مچا رکھا ہے، ایسے برس رہی ہے جیسے آج ہی ختم ہو جانے کو ترس رہی ہے. ٹینٹ پہ گرتی موسلا دھار بارش کی آواز پہلی بار سن رہی ہوں، گھر کی چھت پہ جتنی بھی تیز بارش ہو، ایسے آواز نہیں آتی تھی. ایسے لگتا ہے کہ جیسے بیس کوئی ہزار سپاہی ایک ساتھ پورا پورا میگزین خالی کر رہے ہوں. کتنی مختلف آواز ہے ناں، آپ نے تو کبھی نہیں سنی ہو گی ایسی آواز، جیسے میں گھر میں رہتی تھی ایسے آپ بھی گھروں میں رہتے ہیں ناں، کیسے سن سکتے ہیں یہ آواز جیسے سبھی موٹر سائیکلوں کی آواز ایک سی ہوتی ہے، مگر بابا کی موٹر سائیکل کی آواز میں دور سے ہی پہچان لیتی ہوں، پہچان لیتی تھی. بابا کی موٹر سائیکل کی آواز دور سے آ گئی تھی، میں نے دوڑ کے دروازہ کھولا اور پھر بابا مسکراتے ہوئے موٹر سائیکل اندر لے آئے. بابا کی مسکراہٹ سے خوبصورت شے میں نے آج تک کہیں نہ دیکھی. ماں نے چارپائی پہ بابا کے پسندیدہ لوجر اور چاول رکھے اور بابا اسی خوبصورت مسکراہٹ سے ماں کو دیکھتے ہوئے کھانے لگے. ابھی دو چار لقمے ہی لیے ہوں گے کہ دھڑام سے دروازہ کھلا اور نو دس فوجی سپاہی بڑی بڑی بندوقیں لیے اند...

سُنیہا

جس دن سورج باری ٹپ کے میرے سِر تے آن کھلوتا سی اَکھ کھلی تے کن وچ میرے اوس دن سَت جہنماں دی اَگ دا پانبھڑ پخیا سی گل سن کے میں ڈھے پیا سی میرا پیو مریا سی جس دن اوس دن میں وی مر گیا سی