Posts

Anxiety Attack!

ایک بازار ہے دھند میں لپٹا ہوا کئی رنگ و بُو کی دوکانیں لگی ہیں دوکانوں کے ماتھے پہ نام لکھے ہیں جیسے قبروں کے کتبـے سجے ہوں رکوع میں جھکے ہوئے بجلی کے کھمبـے بلب جن کے سارے جاں بہ لب ہیں شور ہے آوازوں کا لفظ ہیں جن کے معانی نہیں کوئی ساز بجتے ہیں، ردھم کے بغیر ،لیکن مرتی ہوئی روشنی کا مزار ہے کوئی ایک بازار ہے کوئی جس کا فرش میں ہوں پاؤں رکھ کے چھاتی پہ میری خلق ساری گزر رہی ہے ابھ

پرانے، نئے دھوکے

‏وہ پرانا خدا ہی اچھا تھا جس کے لیے ناممکن نہ تھا کچھ بھی کُن کہتا تھا سو ہو جاتا تھا جو چاہتا تھا وہ ہو جاتا تھا وہ پرانا خدا ہی اچھا تھا جس کے جاہ و جلال کے آگے یہ سورج، چاند، مشتری، عطارد یہ زہرہ، یہ زحل یہ مریخ ندارد جس کی چلی چال کے آگے سارے شطرنج باز بـے جاں دو جہاں، لا مکاں بـے نشاں وہ پرانا خدا ہی اچھا تھا جس نے کہف میں دھوپ بھی نہ گھسنے دی جس نے ایک کتے کی عمر بھی نہ گزرنے دی وہ پرانا خدا ہی اچھا تھا وہ کہاں ہے؟ وہ کہیں نہیں ملنا وہ بھی قصہ ہے ایک گزرا ہوا مگر یہ نیا خدا کسی کام کا نہیں کسی محمد کا نہیں، کسی رام کا نہیں اسے صلیب سے نہیں مطلب وہ کسی اسلام کا نہیں وہ کسی کی بھی نہیں سنتا، سب دعائیں بیکار ہیں کسی کو گنتی میں نہیں گِنتا، سفارشیں بیکار ہیں آہیں، سسکیاں، مناجتیں، سب فریادیں بیکار ہیں  یہ نیا خدا کسی کا نہیں بھوک دیتا ہے، ننگ دیتا ہے سر دیتا ہے تو سَنگ دیتا ہے خواب دے کے پھوڑتا ہے آنکھیں پھول مانگو تو جنگ دیتا ہے مرہم دیتا ہے زخم سے پہلے زخم کے بعد مرہم چھین لیتا ہے اک دن دیتا ہے کسی کو سب کچھ سب سے سب ایک دَم چھین لیتا ہے آسماں پر کہیں نہیں ملا اب تک زمین ساری ج...

دو سو روپے

اس رات بارش تھی کہ آسمان زار و قطار ہو رہا تھا. بجلی کڑکتی تھی جیسے اوپر کوئی زنجیر زنی کر رہا ہے اور رہ رہ کے کوئی اک چیختی دھاڑ سنائی دیتی تھی کہ جیسے دریا کے کنارے خشک حلق میں تیر اتر رہے ہوں. ماتمی سی ماتمی رات تھی اور ایک کربلا میرے گھر کے سب سے بڑے کمرے میں برپا تھا. ابا کے ہاتھ، اس کی زبان سے بازی لے جانے کی مسلسل تگ و دو میں تھے. تھپڑ اور مکّے برس رہے تھے، زبان سے گالیوں کی برسات جاری تھی اور میں فرش پر منہ بازوؤں میں دئیے آسمان کی طرح رو رہا تھا. کمرے میں جیسے آدھا محلہ جمع تھا. اماں چارپائی کی پائنتی پر ٹکی دوپٹے میں منہ دئیے رو رہی تھی. بھائی اور بھابھی منہ نیچے کیے چپ بیٹھے تھے. دونوں بہنیں کمرے کے ایک کونے میں دبکی بیٹھی تھیں. چاچا چاچی، پھوپھا، پھپھی،پڑوس کے ماسٹر سلیم بمع بیٹا اور بیوی اور محلے کے امام جو ابا کے دوست تھے، سب چپ چاپ ابا کے اٹھتے ہاتھوں اور چلتی زبان پر ایمان لا چکے تھے. جرم میرا بہت بڑا تھا اور سزا جرم سے بڑی ہو تو طاقت کی دھاک بیٹھی رہتی ہے. مجھ پر جو فردِ جرم عائد ہوئی تھی، وہ یہ تھی کہ میں نے مسجد کے چندے میں سے دو سو روپے چرائے ہیں. گاؤں کی جامع مسجد ...

خود سے ہارے ہوئے لوگوں کے مسیحا

خود سے ہارے ہوئے لوگوں کے مسیحا کہاں ہو؟ کہاں ہو، کہیں سے آواز دو ہم کہ اپنی ذات میں تنہائی کی محفل کی جاں ہیں ہم کہ اپنے درد کے خود جبریل ہیں خود قرآں ہیں ہم کہ اپنی وحشت میں سر بریدہ پر بریدہ یہاں ہیں یہاں ہیں کہ یہیں پر وحشت خرامیاں کھینچ لائی ہیں یہاں ہیں کہ یہیں پر ہم تماشا ہیں، ہم ہی تماشائی ہیں یہ تماشائی ہٹا دو اس تماشے کا پردہ گرا دو کہیں سے آواز دو، کہاں ہو خود سے ہارے ہوئے لوگوں کے مسیحا، کہاں ہو

چالیس اور چار قدم

وہ گھڑی آ گئی تھی جب کلائی پہ بندھی گھڑی اور دل کی دوڑ میں میل جول نہیں رہا تھا. دل کے پیروں میں گھڑی کی سوئیاں چبھ گئی تھیں، وہ دوڑ رہا تھا اور میرے سامنے پچھلے چالیس منٹ میں کئی میٹرو رکنے کے بعد دوڑ لگا چکی تھیں اور میں میٹرو سٹیشن پہ گوستاو ویگیلاند کے کسی مجسمے کی طرح چپ چاپ کھڑا تھا اُس دن کھانا کھانے کے بعد ڈرائنگ روم میں چالیس قدم چلنے کی سنت پوری کی جا رہی تھی. ابا اسے نبی کی سنت مانتے تھے اور میں اِسے ابا کی سنت. میں ابا سے دو قدم پیچھے تھا اور ابا دونوں ہاتھ پیچھے کو باندھے چل رہے تھے "ابا، آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے" ابا یونہی چلتے چلتے ہی بولے کہ کی گل کرنی آ "میں شادی کرنا چاہتا ہوں" ابا نے چلتے ہوئے مجھے مڑ کے دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کے بولے "اچھااااا، ایہہ تے چنگی گل اے، کوئی رشتہ لبھنے آں" اور یہی سارا مسئلہ تھا کہ جو انہوں نے لبھنا یعنی ڈھونڈنا تھا، وہ میں چار سال پہلے ڈھونڈ چکا تھا میری ہتھیلیاں پسینے میں گویا نہا رہی تھیں اور دل چھاتی کو جیسے دونوں ہاتھوں سے پِیٹ رہا تھا. رنگ چونکہ پہلے ہی سیاہی مائل تھا سو سرخ تو نہیں ہوا، مزید ک...

طوائف کا کوٹھا

میرا دِل ہے کہ طوائف کا کوٹھا، جو بھی آیا کچھ دیر رکا پھر دل سے اتر گیا. مستقل محبت، مزاج میں ہے ہی نہیں. مگر یہ بھی نہیں کہ دل کے کوٹھے پہ آنے والے کسی ایک کو بھی فراموش کر دیا ہو. یادوں کے ساز ہمیشہ بجتے ہیں اور کیا خوب بجتے ہیں محبتوں کے زینوں پہ چڑھنے اور کوٹھے تک پہنچنے کی آہٹیں آج بھی دل میں دھڑکن کی طرح بجتی ہیں. کود پھاند کے چڑھتی جوانی کے بیل بوٹے آج بھی سر سبز ہیں، پھول دیتے ہیں، خوشبو میں نہاتے ہیں. وہ گالوں پہ شرم و جھجھک سےخون کا جم جانا، آج بھی ڈوبتی شام کے گلابی بادلوں میں جھلکتا ہے. آنکھیں جو کسی ان دیکھے بھار سے اٹھائی نہیں اٹھتیں. ان جھکی آنکھوں سے کیسے کیسے حسین منظر دیکھ رکھے ہیں. وہ جو ہاتھ، ہاتھ میں آنے سے دل کا  دوڑتے ہوئے  ہتھیلیوں میں آ دھڑکنا، ہتھیلیوں میں پسینے کی چشمے یوں پھوٹ نکلنے جیسے اچانک کسی پہاڑ سے آبشار نکل پڑے. وہ لَمس کی دستکیں جو دعاؤں کی طرح بار بار دی جاتی رہیں کہ کوئی وہ بند کواڑ کھلیں، وہ بند کواڑ کہ جیسے کسی خدا کے گھر کا دروازہ. وہ بوسے جو دھوپ میں پڑتی بارش کی طرح بدن کے ہر ایک کینوس پہ قوسِ قزح کے رنگ بھرتے رپے. وہ بدن کہ جیسے پر...

پرانا دوزخ

آج موسم ہے کہ حُسن کی معراج پہ ہے گویا. نیلے آسمان کی جھیل میں کہیں کہیں سفید بگلے تیر رہے ہیں. سورج تک خوشگوار موڈ میں ہے. گرمی ہے مگر ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا بھی رواں ہے. میں لنچ بار میں باھر کھلے میں رکھی کرسی پہ بیٹھا ٹھنڈی ٹھار بئیر کے ساتھ brie cheese کے مزے لے رہا ہوں   ساتھ والی کرسی پہ ایک  عمر رسیدہ شخص وائٹ وائن کے سِپ لے رہا ہے. عمر کا اندازہ چہرے کی جھریوں، بازوؤں سے پروں کی طرح لٹکتے ماس اور ہاتھوں کی نیلی نَسوں سے نوے سال کا لگتا ہے یا پھر شاید سو کو چھو رہا ہو. عمر کتنی بھی گزری ہو اس کے بال سر پہ پورے ہیں. دودھ کی طرح سفید اور گھنے اور لمبے بال، جنہیں سر کے پچھواڑے باندھا ہوا ہے . کیپ میز پہ دھری ہے، آدھا پھونکا سگار ایش ٹرے میں ہے اور رے بین کی پائلٹ عینک آنکھوں پہ. وقفے وقفے سے بڑی نزاکت سے وائن کا گلاس ہونٹوں تک جاتا ہے، ایک سِپ لی جاتی ہے اور وہ پھر میز پہ لوٹ آتا ہے  سامنے آسمان کے ساتھ رنگ کا مقابلہ کرتا نیلا سمندر ہے. لوگ آ جا رہے ہیں اور پھر اچانک ایک ادھیڑ عمر شخص سامنے سے گزرتے ہوئے پہلے مجھے مسکراہٹ پھینکتا ہے جو ہمارے ہاں عام رویہ ہے، پھر اسی مسکر...